اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
یارا تیری یاری
منجانب
سلیم نوری
اللہ رسول کی باتیں پہلے بھی اچھی لگتی تھیں قریب کی مسجد میں اکثر جماعتیں آتی تھیں, میں یہ باتیں سننے وہاں جاتا تھا.میرے اپنے نظریات تھے.جب سلیم بھائی سے باتیں شروع ہوئیں تو جو نظریات باطل تھے انہوں نے انہیں محو کردیا اور جو اچھے تھے انہیں مزید نکھار بخشا. رفتہ رفتہ تقریباً ہر جاگنے والی رات ساتھ گزرنے لگی, کبھی شاہ فیصل میں اور کبھی اورنگی میں. دعوت اسلامی کے اجتمات میں اکثر ساتھ شریک ہوتے, ایک مرتبہ فیضانِ مدینہ میں ساتھ اعتکاف بھی کیا.اس وقت تو میری بن آئی, میں جو موقع کی تلاش میں رہتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ وقت آپ کے ساتھ گزرے اللہ نے مجھے یہ نعمت بخشی. پھر قاری صاحب نے ہماری زندگی میں قدم رنجہ فرمایا تو ان کی علمی بصیرت نے سلیم بھائی کو نیا رخ عطا کیا اور میرے ویسے ہی مفت کے مزے آگئے. آخر اللہ کا احسان ہوا ہمیں اعظم صاحب جیسے عظیم انسان کی صحبت میسر آئی.ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا کہ "مجھے غوث پاک نے حکم صادر فرمایا ہے کہ سلیم کو ڈیرے پر لیہ لے جاؤں.
پراسرار بندے
منجانب
Shahid
مت سہل اسے جانو ! پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں ذکر قلبی کا ذکر: رات کا شاید تیسرا پہر تھا، میں شیخ صاحب کے ساتھ دوستوں کے ہمراہ اورنگی میں اپنے گھر میں موجود تھا۔ ذکرِ قلبی سے متعلق آپ بیان فرما رہے تھے کہ اسی دوران آپ نے بہت مختصر وقت دیا اور فرمایا کہ اس وقت میں دیکھتے ہیں کون کتنا قلبی ذکر کرتا ہے۔ اس مختصر وقت میں جو سب سے زیادہ ذکر تھا اس کی تعداد سات تھی۔ پھر شیخ صاحب نے فرمایا کہ میں نے ساٹھ مرتبہ اللہ کا نام لیا ہے- یہ آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے۔ آج کی رفتار تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ذکر عاملین کا: میرا چھوٹا بھائی بہت عاملوں کے چکر میں رہتا تھا وہ اسے خوب لوٹتے۔ مجھے پتا چلتا تو شیخ صاحب کے گوش گزار کرتا، پھر اورنگی کا ایک ہنگامی دورہ ترتیب دیا جاتا اور شیخ صاحب پوری آب و تاب کے ساتھ میرے گھر جلوہ افروز ہوتے۔ اس عامل کامل سے ملتے اور کچھ ہی دیر میں اس کی عاملیت ایک طرف اور کاملیت ایک طرف ہ...

بہت شکریہ۔ لگتا ہے آپ نے اسے اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے۔
جواب دیںحذف کریں