Sirat-e-Ishq (صراط عشق)

ایک گفتگو: (پچھلے دنوں ' بزم نوری' کی پرانی پوسٹس دیکھنے کا اتفاق ہوا سوچا کوئی ایسی بات مل جائے جسے بلاگ پر پبلش کرسکوں۔ اسی دوران میں نے عاشی علی کی ایک پوسٹ دیکھی جس میں اس نے حضرت سے اپنی محبتوں کا بڑے خوبصورت انداز میں اظہار کیا تھا۔ اس ہی پوسٹ میں گروپ کی ایک اور ممبر تحفہ کنیز نوری کے کمنٹس بھی تھے جس میں اس نے حضرت سے کچھ سوالات پوچھے تھے۔ اللہ انہیں اس کی جزا دے مجھے یہ گفتگو بہت عمدہ لگی۔ اسی گفتگو کو یہاں پبلش کر رہی ہوں۔) ................................................................................... صراط عشق: تحفہ: شاہ جی! ایک سوال پوچھوں؟ ( تحفہ کنیز حضرت کو شاہ جی کہتی ہیں) شیخ صاحب: جی پوچھیں۔ تحفہ: دنیا میں کسی مقام یا جگہ پر پہنچنے کے لیے راستہ سے گزرنا پڑتا ہے، جیسے بازار یا کسی کے گھر ۔۔۔۔۔۔اگر انسان اللہ کی جانب جانا چاہتا تو وہ راستہ کیسا ہوتا؟؟؟ شیخ صاحب: جیسے گھر سے مسجد،۔۔جیسے گھر سے آستانہ،۔۔جیسے کنیز کے بالوں کی مانگ،۔۔جیسے ماں کے قدم،۔۔جیسے شیخ کے دل کی خوشی،۔۔جیسے خودی،۔۔جیسے بیخودی،۔۔جیسے صراط مستقیم،۔۔۔جیسے نقشب...