قرآن کی عظمت قرآنِ پاک عظیم ہے۔ اسے جس قدر عظیم سمجھو، یہ اس سے زیادہ عظیم ہے۔ اس سے جتنی محبت کرو، اتنا ہی اس کا فیض تمہاری جانب آتا ہے۔ کم عظمت کے ساتھ زیادہ قرآن پڑھنے سے بہتر ہے کہ بے پناہ عظمت رکھ کر کم پڑھ لیا جائے۔ اس کا فیض؛ اس کی عظمت اور ادب کے احساس کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ میں نے چوتھی کلاس میں آتے آتے ختمِ قرآن کر لیا تھا۔ جس وقت میں ناظرہ پر تھا، اس وقت بھی میرے اندر اس بات کی شدید تڑپ تھی کہ یہ جان سکوں کہ اس میں کیا پیغام لکھا ہے۔ در حقیقت قرآنِ پاک میں زیادہ تر کلمات وہ تھے جن کے معنی میں نہیں جانتا تھا، وہ میرے لئے بہت اجنبی تھے جیسے؛ أَحْبَارَهُمْ، أَخَرَقْتَهَا، أَسْتَخْلِصْهُ، اسْتَهْوَتْهُ، أَسْفَارِنَا، الْخَرَّٰصُونَ، سَوْءَٰتِهِمَا، سَيُصِيبُهُمْ، صَيَاصِيهِمْ وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بہت سے ایسے کلمات بھی تھے جن کے معنی میں اس وقت بھی اچھی طرح سے جانتا تھا جیسے؛ رب العالمین، مالک، صراطِ مستقیم، کتاب، آخرت، رسول، عظیم، رعد، برق وغیرہ ۔ اگرچہ کہ آیات کا مفہوم تو واضح نہ ہوتا تھا لیکن اتنا واضح ہو جاتا تھا کہ بات کس شئے کے بارے میں کی جا رہی ہے۔ اور بہت ...