بلاگ کی اجازتیں : یہ بلاگ آپ کا اپنا ہے۔ جو چاہیں پوسٹ کریں۔ تاہم چونکہ اس کا تعلق آستانے کے ساتھ ہے اس لئے آپ کو مندرجہ ذیل اجازتیں مصنف (آتھر) یا ایڈمن بنتے ہی حاصل ہو جاتی ہیں: اپنی پوسٹ کیلئے اپنے الفاظ کی۔ کسی بھی لیبل پر پوسٹ کرنے کی۔ بزم نوری کے کسی بھی ممبر کو اس بلاگ کا لکھاری (بلاگر) بنانے کی۔ اپنی مرضی کی تصاویر ڈالنے کی۔ شیخ صاحب کے شیئرڈ البم سے اپنی پوسٹ میں ان کی کوئی تصویر ڈالنے کی۔ آستانے کی کسی بھی شیئر وردی بات کو پوسٹ کرنے کی۔ بیحد مختصر جیسے ایک لائن کی پوسٹ کرنے کی۔ بیحد طویل جیسے کئی صفحات کی۔ روز مرہ کی آستانے کی حاضری اور وہاں کی گئی باتوں کو لکھنے کی۔ بنا تصویر کی پوسٹ یا بنا متن کی تصویر پوسٹ کرسکتے ہیں۔ بلاگ کی پابندیاں: بلاگ آپ کا اپنا ہے، لیکن اگر بدنظمی سے کام کیا جائے تو بھدا ہوجاتا ہے۔ ذیل میں وہ چیزیں درج ہیں جن کی ایڈمن سمیت کسی کو اجازت نہیں۔ کسی بھی قسم کی نا مناسب پوسٹ اور جملوں کی۔ کسی ایسے شخص کو ممبر بنانے کی جس کا آستانے یا بزم سے تعلق نہ ہو۔ بغیر لیبل کی پوسٹ کرنے کی۔ خود سے نئے ل...
بھگوڑا ایک لڑکا گھر سے بھاگنے کا عادی تھا، بار بار بھاگتا اور ماں باپ اسے تلاش کرتے پھرتے۔ جب ڈھونڈ کر لاتے تو پھر کچھ عرصہ کے بعد بھاگ جاتا، آخر کار ماں باپ اس کے بار بار بھاگنے سے تنگ آگئے اور ایک مردِ کامل کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ہمارا لڑکا یوں کرتا ہے۔ اس مردِ کامل نے کہا: ’’تمہاری محبت کی زیادتی نے اُس کو ایسا بنا دیا ہے، اب اگر بھاگے تو تم اس کی پروا نہ کرنا، خود پریشان ہو کر جب واپس آئے گا تو کبھی نہ بھاگے گا۔‘‘ چنانچہ ماں باپ نے ایسا ہی کیا اور اس مردِ قلندر کی بات پر عمل کیا اور اسے نہ ڈھونڈا، آخر کار پریشان حال، دکھی، ٹھوکریں کھاتا، گرتا پڑتا ماں باپ کے پاس پہنچا تو پھر کبھی ماں باپ کو چھوڑ کر نہ گیا۔ (تفسیرِ نعیمی، ج۲، ص ۴۲۷)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
اس پوسٹ پر اپنا خوبصورت تبصرہ ضرور درج کریں۔ حسنِ اخلاق والے نرم تبصروں کو سبھی پسند کرتے ہیں۔