اللہ رسول کی باتیں پہلے بھی اچھی لگتی تھیں قریب کی مسجد میں اکثر جماعتیں آتی تھیں, میں یہ باتیں سننے وہاں جاتا تھا.میرے اپنے نظریات تھے.جب سلیم بھائی سے باتیں شروع ہوئیں تو جو نظریات باطل تھے انہوں نے انہیں محو کردیا اور جو اچھے تھے انہیں مزید نکھار بخشا. رفتہ رفتہ تقریباً ہر جاگنے والی رات ساتھ گزرنے لگی, کبھی شاہ فیصل میں اور کبھی اورنگی میں. دعوت اسلامی کے اجتمات میں اکثر ساتھ شریک ہوتے, ایک مرتبہ فیضانِ مدینہ میں ساتھ اعتکاف بھی کیا.اس وقت تو میری بن آئی, میں جو موقع کی تلاش میں رہتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ وقت آپ کے ساتھ گزرے اللہ نے مجھے یہ نعمت بخشی. پھر قاری صاحب نے ہماری زندگی میں قدم رنجہ فرمایا تو ان کی علمی بصیرت نے سلیم بھائی کو نیا رخ عطا کیا اور میرے ویسے ہی مفت کے مزے آگئے. آخر اللہ کا احسان ہوا ہمیں اعظم صاحب جیسے عظیم انسان کی صحبت میسر آئی.ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا کہ "مجھے غوث پاک نے حکم صادر فرمایا ہے کہ سلیم کو ڈیرے پر لیہ لے جاؤں.
کل بروز منگل حضرت صاحب کے گھر تشریف لے جانے کی سعادت ملی۔ حضرت کی شاہزادی نورالعین سے کچھ کام کے سلسلے میں ، حضرت سے ملاقات کا شرف بھی ملا۔ حضرت نے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ " کمپیوٹر کے پروگرامز یا کوئی سافٹ وئیر جسے ہم استعمال کرتے ہیں اگر ہم اس کی پروگرامنگ کو ڈسٹرب کردیں اور اسے درست نہ کر پائیں تو کیا ہوگا؟ یقیناً اس پر کیا گیا ہمارا سارے کا سارا کام بکھر جاۓ گا اور خراب ہو جاۓ گا۔ آپ کو لگے گا کہ اب تو یہ کام درست ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن جب آپ اس پروگرام کے ڈیویلپر یا پروگرامر کے پاس جائیں گے تو وہ اسے ایک کلک سے یا اس پروگرام کی سیٹنگ کرکے اسے درست کر دے گا۔ بالکل اس طرح ہم اپنی ذات کی سیٹنگ کو خراب کر دیتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم جیسے کبھی اپنی غلطی کو درست نہیں کر پائیں گے، تب کوئی تو ہو جو ایک نظر سے ہماری ذات کے اس بگاڑ کو درست کردے۔ منگل، 9 جولائی 2019
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
اس پوسٹ پر اپنا خوبصورت تبصرہ ضرور درج کریں۔ حسنِ اخلاق والے نرم تبصروں کو سبھی پسند کرتے ہیں۔