اشاعتیں

ابدال

تصویر
میرے والدِ محترم حضرت اللہ نور رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق پیرومرشد حضرت ظفر مدظلہ العالی نے فرمایا کہ آپ کے والدِ محترم، صاحبِ بصیرت اور اللہ کے ولی تھے۔ میرے والدِ محترم کے خواب سچے ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے خواب دیکھا کہ میری والدہ محترم، سلیم بھائی (شیخ صاحب) کے متعلق میرے والدِ محترم سے فرمارہی ہیں کہ ہمارا یہ بیٹا ابدال ہے۔ سیّد محمد عابد

سایہ

ظاہری ہے جمال کا سایہ باطنی ہے کمال کا سایہ مندمل زخم ہوگئے میرے جب پڑا اندمال کا سایہ کیوں نہ محبوب میں رکھوں تم کو تم پہ ہے ذوالجلال کا سایہ دشتِ ہجراں میں جلد ہی لوگو یاد آیا وصال کا سایہ آبلوں کو جہاں سکون ملے آؤ دیکھو کمال کا سایہ نوریوں مبتلائے غم کیوں ہو تم پہ شیخِ نہال کا سایہ روز محشر کی دھوپ میں شاہد مجھ پہ تجھ خوش خصال کا سایہ شاہد شیخ

دین دار کون ہوتا ہے ؟

! شیخ صاحب نے ارشاد فرمایا دین دار وہ ہوتا ہے جو خیر خواہ ہو جو لوگوں کا بھلا چاہتا ہو جس کا ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ ہو ۔

نذرانۂ عقیدت

چار سو آستانے کا پھیلا ہے نور مثلِ شمس و قمر کیسا چمکا ہے نور گفتگو نور کی جستجو نور کی جسم نوری ہے تیرا لبادہ ہے نور نور  خوباں  سے نوری ہے پیرِ سلیم بوئے خونِ شہیداں سے مہکا ہے نور نوریوں کے دلوں کو کیے ہے حصار علم و حکمت سے پُر میٹھا میٹھا ہے نور قلبِ شاہد کو بھی تو معطر کرے تیری سانسوں کا جو مہکا مہکا ہے نور شاہد شیخ

Mery Murshid (میرے مرشد)

تصویر
ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﯿﺪ ﺍﻟﺘﺠﺎ میرے مرشد ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻤﻨﺎ میرے مرشد   ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻔﺮﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎ میرے مرشد   ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻧﻘﺶ ﻣﺤﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﺛﺒﺖ ﺭﮨﺎ ﺩﻝ ﭘﮧ ﻭﮦ ﭼﮩﺮﮦ میرے مرشد   ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ، ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺋﯿﻨﮧ میرے مرشد   ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺷﮯ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺑﮯ بہا میرے مرشد   ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﮐﺴﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎ میرے مرشد

جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھا دیئے ہیں

تصویر
علمِ جعفر  :   آفس میں چائے کا وقت تھا۔ ہم چائے پی رہے تھے کہ کسی نے شیخ صاحب کو ایک پتلا سا رسالہ جس کا نام غالباً "جنتری " تھا دیا۔ آپ نے کھول کر سرسری سا دیکھا اس میں ایک مضمون علمِ جعفر سے متعلق تھا جس میں علم سکھایا نہیں گیا تھا بلکہ اس کے بارے میں صرف معلومات دی گئیں تھیں۔ شیخ کی توجہ اس طرف چلی گئی۔ بس پھر کیا تھا وہ رسالہ گھر لے گئے۔ پائنچے چڑھائے اور اتر گئے علمِ جعفر کے عمیق سمندر میں اور سمندر کی تہہ سے چن لیا ملکہ موتی۔ اور جب ملکہ موتی ہاتھ آجائے تو دوسرے موتی خود بخود ساتھ آ جاتے ہیں۔ پھر آپ نے ان موتیوں کو حفظِ مراتب کے تحت ایک لڑی میں پرویا۔

حال سے حال ملا

تصویر
سلسلہ کس شئے کا نام ہے؟ لوگوں کے جمع ہو جانے کا؟ نہیں۔۔۔۔ لوگوں  کے دلوں کے جڑ جانے کا، ایک جیسی سوچ کا ہمارا نقشبندی نوری بھی ایک سلسلہ ہے ہماری نوری اور نورانی سوچ کا ہمارے دلوں کے ایک ساتھ دھڑکنے کا۔ سوچ کس کے ساتھ جڑتی ہے؟ آپس میں؟ نہیں! بلکہ اپنے شیخ کے ساتھ بلاگ دراصل مرشد کا سایہ ہے بزم مرشد در حقیقت مرشد کی بزم ہے مرشد کی سوچ کی عکاس، قلب سلیم کا عکس نہ کہ ہماری منتشر سوچوں اور خیالات کی پوسٹ تو آپ کہیں بھی کر سکتے ہیں، اپنی اور اپنے دوستوں کی ٹائم لائن پر یا کسی گروپ میں کہتے ہیں چراغ سے چراغ جلتا ہے حال سے حال ملتا ہے تو پھر اے نوری حال سے حال ملا مرشد کامل سے اپنے قلب کو جوڑ خوب اچھی طرح سے ان کے الفاظ بول ان کی چال چل ان کے رنگ میں رنگ جا ان کی تازہ ترین پوسٹ پر غور کر وہ کیا فرماتے ہیں پھر پوسٹ کر ان سے ملتی ان کے حال کو واضح کرتی ان کے نظریئے کو فروغ دیتی۔ کبھی سوچا اگر وہ ناراض ہوگئے تو؟ تم سے مایوس ہوگئے تو؟ تم سے بیزار ہوگئے تو؟ جو پوسٹ کرو ان کی پوسٹ کی تشریح کرتی کرو ان ...