اشاعتیں

میرے استاد

تصویر
جس طرح کسی باغ کے پودوں کی افزائش و حفاظت باغبان کی توجہ اور کوشش کے بغیر نہیں ہو سکتی اسی طرح مرید کی تربیت استاذ (مرشد) کی توجہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ مرشد اپنی تربیت سے مرید کے اندر رذائل خصالہ کو نیک اوصاف میں تبدیل کر دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “ انما بعثت معلما ” یعنی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ شیخ نبی کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اسی لیے شیخ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہو سکتا۔ بس اسی طرح ہمارے شیخ ہمارے استاد بھی ہیں۔ جو ہم پر بے حد مہربان بھی ہیں۔ شیخ صاحب تو ہمیں ہر  چیز سکھا دینا چاہتے ہیں۔ اب یہ مرید کا ظرف ہے کہ وہ کتنا سیکھتا ہے۔  ؎         ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں شیخ (استاد) کا سایہ اپنے مریدوں پر ہر آن رہتا ہے۔ شیخ اپنے مریدوں سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوتا۔ اپنے مریدوں کی تمام پریشانی اپنے اوپر جھیلتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بلاگ کا نام بھی سایہ رکھا گیا ہے۔ ؎          مالی دا کم پانی دینا ، پھل پکے  ہون یا  کچے  ...

کامل تصور شیخ

تصویر
عربی کی کلاس سے پہلے شیخ صاحب تصور شیخ کا بتا رہے تھے اور ہم کو بھی ذکر و وظائف میں تصور شیخ کا درس دیا۔ فرماتے ہیں میں (شیخ صاحب) اکثر وظائف ٹہل کر پڑھتا تھا اور تصور شیخ میں ہوتا تھا تو مجھے زمین پر حضرت صاحب کی تصویر بنی ہوئی نظر آتی تو میں (شیخ صاحب) بچ کر چلتا تھا کہ کہیں میرا قدم حضرت صاحب کی تصویر پہ نہ لگ جائے۔ سبحان اللہ ادب ہو تو ادب ایسا۔ فرماتے ہیں کہ میں (شیخ صاحب) مراقبہ کرتا تھا تو حضرت صاحب کی پیشانی پر اللہ ھو لکھا دیکھ کر کرتا۔ فرماتے ہیں کہ تصور شیخ کے بغیر ذکر بے معنی ہے۔                                                            سید  محمد عماد

ابدال

تصویر
میرے والدِ محترم حضرت اللہ نور رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق پیرومرشد حضرت ظفر مدظلہ العالی نے فرمایا کہ آپ کے والدِ محترم، صاحبِ بصیرت اور اللہ کے ولی تھے۔ میرے والدِ محترم کے خواب سچے ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے خواب دیکھا کہ میری والدہ محترم، سلیم بھائی (شیخ صاحب) کے متعلق میرے والدِ محترم سے فرمارہی ہیں کہ ہمارا یہ بیٹا ابدال ہے۔ سیّد محمد عابد

سایہ

ظاہری ہے جمال کا سایہ باطنی ہے کمال کا سایہ مندمل زخم ہوگئے میرے جب پڑا اندمال کا سایہ کیوں نہ محبوب میں رکھوں تم کو تم پہ ہے ذوالجلال کا سایہ دشتِ ہجراں میں جلد ہی لوگو یاد آیا وصال کا سایہ آبلوں کو جہاں سکون ملے آؤ دیکھو کمال کا سایہ نوریوں مبتلائے غم کیوں ہو تم پہ شیخِ نہال کا سایہ روز محشر کی دھوپ میں شاہد مجھ پہ تجھ خوش خصال کا سایہ شاہد شیخ

دین دار کون ہوتا ہے ؟

! شیخ صاحب نے ارشاد فرمایا دین دار وہ ہوتا ہے جو خیر خواہ ہو جو لوگوں کا بھلا چاہتا ہو جس کا ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ ہو ۔

نذرانۂ عقیدت

چار سو آستانے کا پھیلا ہے نور مثلِ شمس و قمر کیسا چمکا ہے نور گفتگو نور کی جستجو نور کی جسم نوری ہے تیرا لبادہ ہے نور نور  خوباں  سے نوری ہے پیرِ سلیم بوئے خونِ شہیداں سے مہکا ہے نور نوریوں کے دلوں کو کیے ہے حصار علم و حکمت سے پُر میٹھا میٹھا ہے نور قلبِ شاہد کو بھی تو معطر کرے تیری سانسوں کا جو مہکا مہکا ہے نور شاہد شیخ

Mery Murshid (میرے مرشد)

تصویر
ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﯿﺪ ﺍﻟﺘﺠﺎ میرے مرشد ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻤﻨﺎ میرے مرشد   ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻔﺮﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎ میرے مرشد   ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻧﻘﺶ ﻣﺤﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﺛﺒﺖ ﺭﮨﺎ ﺩﻝ ﭘﮧ ﻭﮦ ﭼﮩﺮﮦ میرے مرشد   ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ، ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺋﯿﻨﮧ میرے مرشد   ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺷﮯ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺑﮯ بہا میرے مرشد   ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﮐﺴﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎ میرے مرشد