اشاعتیں

Blog Admins & Authors Authorities

Author(s) can Add and edit their own posts Administrator(s) can Add or remove other administrators and authors Change the blog's settings or template Edit or delete any posts Note:  If you make someone an administrator, you give them the right to remove you from your blog.

Blogger Profile Picture

تصویر
Choose your Blog Profile Picture. Enter in Saya with a picture profile. It is easy as 123. In Saya, click on your name (Left Column). Click Edit Profile. Click Profile Picture. Upload any picture of your choice. It is all done.

شجرہ طیبہ شریف

تصویر
شجرۂ شریف کے آخری دو اشعار:  کر عطا پاسِ وفا دے  صدقۂِ ذبحِ عظیم پیر اعظم عاشقِ خیرالوریٰ کا واسطہ یاالٰہی نوریوں کو کر عطا قلبِ سلیم واسطہ مرشد سلیمی منبعِ انوار کا شاہد شیخ

عید مبارک

تصویر
سایہ کے تمام ممبرز، مصنفین اور ایڈمنز کو اور تمام پڑھنے والوں کو آستانۂ نوری اور سایہ کی جانب سے دلی عید مبارک اور اس بار بھی ہر سال کی طرح قربانی کی خوشیوں اور محبتوں میں ہنستے مسکراتے رہیں۔ اللہ پاک ایسی ڈھیروں خوشیوں بھری عیدیں دیکھنا نصیب کرے اور آپ اس جہان میں ضرورت مندوں کا سہارا بن کر اور جہان میں نور کا چمکتا مینار بن کر زندگی گزاریں۔ آمین !

پراسرار بندے

تصویر
مت سہل اسے جانو !    پھرتا ہے    فلک برسوں    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں ذکر قلبی کا ذکر: رات کا    شاید تیسرا    پہر تھا،    میں شیخ صاحب کے ساتھ دوستوں کے ہمراہ اورنگی میں اپنے گھر میں موجود تھا۔    ذکرِ قلبی سے متعلق آپ بیان فرما رہے تھے کہ اسی دوران آپ نے بہت مختصر وقت دیا اور فرمایا کہ اس وقت میں دیکھتے ہیں کون کتنا قلبی ذکر کرتا ہے۔    اس مختصر وقت میں جو سب سے زیادہ ذکر تھا اس کی تعداد سات تھی۔ پھر شیخ صاحب نے فرمایا کہ میں نے ساٹھ مرتبہ اللہ کا نام لیا ہے- یہ آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے۔    آج کی رفتار تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ذکر عاملین کا: میرا چھوٹا بھائی بہت عاملوں کے چکر میں رہتا تھا وہ اسے خوب لوٹتے۔      مجھے پتا چلتا تو شیخ صاحب کے گوش گزار کرتا، پھر   اورنگی کا ایک ہنگامی دورہ ترتیب دیا جاتا اور شیخ صاحب پوری آب و تاب کے ساتھ میرے گھر جلوہ افروز ہوتے۔    اس عامل کامل سے ملتے اور کچھ ہی دیر میں اس کی عاملیت ایک طرف اور کاملیت ایک طرف ہ...

لکھنے کا شوق

حقیقی ملاقات:   بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا جس کے لیے اکثر سوچتا لکھوں کیسے !! پھر ہوا یہ کہ  شیخ صاحب سے میری ملاقات میرے چاچو اور جسیم بھائی کے توسط سے پہلے ہی تھی اس لیے میں نے شیخ صاحب سے یہ تذکرہ کیا کہ مجھے کہانیاں لکھنی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ شیخ صاحب کے اندر پورا سمندر موج زن تھا ، جیسے جیسے مجھے وہ لکھنے کے گر سمجھاتے رہے ویسے ویسے میری عقل حیراں اور دل خوشی سے جھومنے لگا ، میں شیخ صاحب سے شدید متاثر ہوگیا تھا ، انہوں نے مجھے اپنی لکھی ہوئی کتابیں بھی دیں جنہیں پڑھ کر میں ان کا گرویدہ ہوگیا ، کہ شیخ صاحب کے اندر سائنٹسٹ ، دینی اسکالر عالم ، اور نہ جانے کون کون سے علوم کا ماسٹر رہتا ہے۔ شیخ صاحب نے شروعات میں دعوت اسلامی جوائن کر رکھی تھی میں بھی ان کے ہاتھ میں ہاتھ دئیے ان کے پیچھے ہو لیا۔ شیخ صاحب نے میری کئی سال تربیت فرمائی ، درمیان میں شیطانی جال میں پھنس کر میں غائب ہو گیا ، لیکن اب اللہ تعالیٰ کا شکر ہے میں پھر سے ان کے دامن سے وابستہ ہوں۔ شیخ صاحب کی پچھلی تربیت میرے ہمیشہ کام آئی اور میں آج جیسا بھی ہوں صرف انہی کی بدولت ہوں۔ شیخ صاحب...

چین تم سے ہے

چین تم سے قرار تم سے ہے  دو جہاں کی بہار  تم سے ہے  یوں تو دنیا میں حسیں ہیں لاکھوں  کیا کروں مجھ کو پیار تم سے ہے شیخ صاحب کے اشعار شیخ صاحب کی نذر ۔